Bismil saeedi tonki
احساسِ تقدس کا منفرد شاعر بسملؔ سعیدی ٹونکی
ہندوستان کے صوبے راجستھان کے علاقائی ادب کوکسی طورفراموش نہیں کیا جاسکتا۔ راجستھان کے علاقہ ٹونک کی ادبستان میں اپنی منفرد شناخت ہے ۔ٹونک زبان و ادب کی ایک خوبصورت وادی ہے کہ جہاں آج بھی بناس کے کنارے مروت و اخلاس کے پیمانے چھلکتے ہیں ۔لطافتوں کے ساتھ قہقہے گونجتے ہیں اور بیار کی بھینی بھینی سوندھی مہک کے ساتھ عشق کا سرور اپنے رنگ دکھاتا ہے ۔جہاں آج بھی گلیوں میں پان کی گلوری کا مزہ باقی ہے اور سندل کی ٹوکری میں زیب دیتے موگرے کے ہار ماحول کو خوشنما کئے دیتے ہیں یہ وہی اخترؔ کا ٹونک ہے ،یہ وہی امیر خاں کا ٹونک ہے،ٹونک کہ جہاں اردو ،فارسی عربی کے مایہ ناز ادبا، شعرا،حکما، فضلا نے اپنے زبان و بیان ،تخلیقیت وماہیت کا ایک جدا گانہ مذاق قائم رکھا اور بناس کے کنارے بسے اسی سر سبز و شاداب شہر نے ہر دور میں باذوق و با کمال ادبی سر چشمے رواں کئے ۔ اسی ضمن میں اس مقدس علاقے کا ایک شاعر جسے احساس کا بانی اور جزبات کا قلندر کہا جاتا ہے ’’سید علی میاں بسملؔ سعیدی‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر نمودار ہوا۔ جن کاکلام ’’آپ بیتی‘‘ کا مزہ لیے تھاجس کے بطن سے جذبات کے بے بہا دھارے پھوٹ رہے تھے،جس نے دورِ خزاں میں بھی ترشح کی کیفیت طاری کی اور ادبی خدمات انجام دیں۔ بسملؔ صاحب نے ایسا پُر انبساط کلامِ عشق پیش کیا کہ آج بھی شائیقین اس سے محظوظ ہیں ۔ہندوستان میں ان کی اپنی ایک منفرد پہچان قائم و دائم ہے۔ ان کے کلام میں اپنے خطے کی تہذیب و شوخی بھی پیش پیش رہی ہے۔
گزر کہ عشق کی حد سے بھی کچھ یہ عالم ہے
کہ جیسے عشق ابھی ان کے حسن سے کم ہے
وہ اپنے ظلم سے خود بھی نہ رہ سکے محفوظ
جبیں پر آج نہ بل ہے،نہ زلف میں خم ہے
ریاست ٹونک کے ایک ادبی و علمی گھرانے میں ۱۹۰۱ء میں بسملؔ سعیدی کی ولادت ہوئی۔ ادبی بحر اس خاندان میں ورثے کی صورت رواں تھا۔ آپ کے جد امجد مولوی حکیم سید احمد علی سیماب اور آپ کے والد مولانا حکیم سید سعید احمد اسعدؔ اپنے زمانے کے عالموں میں شمار کیے جاتے تھے ،لہٰذا ٹونک کی اسی علمی روایت نے بسملؔ پر بھی وہی سرور طاری کیا اور آپ بھی کم سنی کے زمانہ ہی سے شعر گوئی کے فن پر قربان ہوگئے۔ یہ ذوقِ ذہن ، ذوقِ قلم رفتہ رفتہ اب ذوقِ رگ بن کر خون میں سرایت کرگیا ۔ آپ زبان و ادب کے چمن میں پرورش یافت تھے۔عربی، فارسی اور اردو سے خاصی شناسائی تھی۔ مزاج میں نرمی تھی، پر خلوص و زندہ دل شخصیت کے مالک تھے۔ یہی زیبائشِ ذہن، زینتِ افکاار کی صورت کاغز پر بکھر گئی ،آپ کے کلام میں بھی ان خیالات کا اظہار ہونالازمی تھالہٰذاجب آپنے شعر گوئی کا آغاز کیا گو کہ روایتی اسلوب میں افکارِ نو کے رجحانات رواج پانے لگے۔ بسمل کی شاعری کا یہ امتیاز ہے کہ وہ لاجواب تمثیلات اور علامات کا بخوبی استعمال کرتے ہیں علامتوں کا انتخاب بالخصوص اس تکنیک سے کرتے ہیں کہ وہ ایک مزہ پیدا کرتی ہیں ۔
شبِ تاریک میں پیدا سحر کرنا بھی آتا ہے
ہمیں داغِ جگر کو جلوہ گر کرنا بھی آتا ہے
اِدھر اُدھر مِری آنکھیں تجھے پکارتی ہیں
میری نگاہ نہیں ہے زبان ہے گویا
غفلت زدوں کو ہم یوں ہی سمجھا کے رہ گئے
اندھوں کو جیسے آئینہ دِکھلاکے رہ گئے
یہاں اس بات کی بھی وضاحت کردیں کہ بسملؔ سعیدی کے شعری افکار کسی دیگر فنکار سے ہرگز تعلق یا ربط نہیں رکھتے۔ یہ وہ شاعری تھی جس نے غزل کے روپ میں اپنی نئی فصل کے پودوں پر اپنے نئے پھول کھلائے ہیں۔یہاں لفظی جماوٹ نہیں ہے بلکہ جذبات کی چاشنی رواں دواں ہے۔ بسمل ؔ کی شاعری کے عکس میں گر اس بات پر غورکریں تو معلوم ہوگا کے بیان اور جمالیات کی جادوگری سے ایک ایسی روپ کی رانی ،نازک بدن ونازنیں کا سراپہ پیش کرتے ہیں کہ جس کے ساتھ جمالیات وپیکر تراشی کی مثالِ لازوال پیدا ہو تی ہے اور قاری کے دل میں ہلچل کا عالم برپا دیتے ہیں ۔یہاں الفاظ کی بالیدگی اور بے چین جزبات کی طویل کہکشاں روشن ہوتی ہے ، یہاں ان کا اصل ہنر اپنے عروج پر نظر آتا ہے کہ جہاں اختر ؔ کی رومانی شاعری اور جمالیات کے چمنستان میں اظہار پردوں کو تج کر ان سے بے خوف باہر پھیل جاتا ہے ۔پرُرکیف فضا میں جس طرح اختر نے اپنی محبت کے نغموں سے سلمیٰ ، ریحانہ، عذریٰ اور ثریا کی یادوں، باتوں، ملاقاتوں اور وفا کے جھولے جھلائے ہیں، اسی قسط میں بسملؔ نے اپنی پاک محبت کو دل کے نہاخانوں میں الفاظ کی قبا کے پیرائے میں پُراثر انداز میں پیش کردیا ہے۔مقدس محبت اپنی تمام رعنائیوں کے درمیان پردہ در پردہ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ ان کا عشق مدہوش ہوکر بے پرواہ نہیں ہوتااور اپنی حدود سے بغاوت نہیں کرتا وہ ایک دائرے میں پہلو بہ پہلو عاشق و معشوق کے مچلتے جزبات کو پیش کرتے ہیں ۔ خواہ وہ کمال ضبط اور الفاظ کا باکپن اورمحبت سے لبریز اشعار ہوں، بلا شبہ کہیں بھی تہذیب کا باندھ نہیں توڑتے۔ غزل اپنے جذبات کے ساتھ جمالیات کی تصویر لیے عشق کے بطن سے نکھرتی ہوئی منظرِ عام پر آتی ہے کہ کلام کا حسن دیدہ ور ہوتا ہے اور اندازِ بیاں یہ بسمل ؔ کا کمال ہی ہے کہ اشعار محبت کی ترجمانی کرتے ہیں اوراحساس کی روشن بارات قارئین کے قلب تک رواں کرتے ہیں ،لکھتے ہیں۔
فانوس شب میں جیسے ہو شمعِ خیالِ دوست
جیسے شبِ فراق میں یادِ جمالِ دوست
او پیکر سیج لباس سیاہ میں
کافر تجھی سے آئی ہے لذت گناہ میں
ان کا جمال اور میرے آغوشِ شوق میں
زرِ کومل کے تحیر کی تابندگی رہی
بسملؔ سعیدی ہندوستان کی شاعری و ادب میں اس ممتاز شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے کہ جن کا نام عوامی مشاعروں میں سامعین کو جھومنے پر مجبور کردیتا تھا۔ بسملؔ صاحب نے رباعی، قطعہ، نظم، غزل غالباً تمام تر منظوم اصنافِ سخن پر قلم آزمائی کی ہے اور فتح یاب رہے ہیں۔ آپکے کلام کا مجموعہ ’کلیات بسمل ‘ کے نام سے مخمور ؔ سعیدی نے مرتب کیا ۔دراصل بسملؔ صاحب کا اسلوب وقتی طور پر مبنی بناوٹ و تصنع سے عاری رہا۔ آپکی شخصیت کی ہی مانند آپکے اشعار میں بھی پیچیدگی اور دِکھاوے کی مقدار قلیل رہی ۔ وہیں خالص جذبات اور عقیدت سے پُر شاد نحیف شاعری نے بسملؔ کو وہ تاب بخشی کہ ان کا کوئی ثانی نہیں ملتا۔ روایت کی پیروی کے باوجود ان کی غزلیات جواں و خوش باش نظر آتی ہیں۔ حسن کا جلوہ بھی ہے اور عاشق کی بے قراری بھی ہے ۔
جس کے دل پر عرش اتر آتا تھا بن کر شعر تر
اب وہ بسمل تشنہ الہام ہے تیرے بغیر
جس قدر عشق نے دنیا میں فسانے لکھے
اُن فسانوں کا رہا درد ہی عنواں ہوکر
جس شخص کی بسمل سے ملاقات ہوئی ہے
وہ شخص محبت کے پیمبر سے ملا ہے
روایت بیانی نے اب چولا تبدیل کیا اور ترقی پسند مصنفین نے اپنی جداگانہ جماعت کو پیش کیا۔ ہر شے میں تبدیلی سانس لے رہی تھی فضا بدل ر ہی تھی۔ موضوع سے مفہوم تک نئی قبائیں اختیار کرنے کی کوشش میں تھے۔ ٹونک میں بھی ادب نے کروٹ لی لیکن بسمل سعیدی اپنی جگہ قائم رہے۔ آپ اس لیے بھی ان کی صف میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ بسملؔ صاحب کی غزل مقررہ آداب و القاب کے روابط و ناز کے بام پر ہی اٹھلا رہی تھی۔ اس میں اب بھی قدامت و روایت کے تذکرے تھے۔ وہ اسی ذہن ودل کی کیفیت پر مربوط تھی جہاں شائستہ بیانی کے ساتھ شگوفہ حوالِ دل پر مرتسم رجحان کی مفصل ادائیگی موجود تھی۔ بسمل صاحب نے اس دوران متعدد نظمیں بھی لکھیں جن میں بالخصوص معاشرتی مسئلوں اور در پیش مشکلوں کا تذکرہ تھا ان کی نظمیں قومی اتحاد،میل ملت، وطن پرستی، ایکتا ،محبت اور اپنے اہم لیڈروں پر لکھی گئی ۔جن میں بہت استادی اور ماہیت کے ساتھ ان تمام مدعوں کو اٹھایا گیا جو دیمک بن کر ملک کے اتحاد کی جڑوں کو کھوکھلا بنا رہے تھے ۔آپ کی نظموں میں سرکار خفا ہیں،گرو نانک،گاندھی جینتی،مہاتما گاندھی،کاشتکار، کانگریس،نعرائے جمہوریت،ہندوستان کا سپاہی،ہولی،حیاتِ نو اور سیاہ ساڑی قابلِ ذکر ہیں ۔
جناب مخمورؔ سعیدی صاحب نے بسمل صاحب کا ’’کلیاتِ بسمل’’ مرتب کیا ہے۔ اپنے استاد کی عظمت میں لکھتے ہیں کہ :
’’بسملؔ صاحب میرؔ کے لہجے کی گھلاوٹ اور گمبھیرتا، غالبؔ کے تفکر اور مومنؔ کی استادی کے بہت قائل تھے۔ وہ حالیؔ کی متانت اور سادگی کے دلدادہ تھے تو داغؔ کی چاشنی زبان کے رسیا بھی لیکن آگے چل کر اس نے داغؔ کے بعض شاگردوں کے کلام میں جو صورت اختیار کی اسے وہ پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ خالص زبان کی شاعری کا تصور ان کے لیے ناقابلِ قبول تھا اور وہ اسے شاعری کے نام پر ایک طرح کا اہتمام قرار دیتے تھے‘‘۔
آپ کا کلام اختراعی ذہن اور اجتہادی افکار کا قابل قدر سرمایہ ہے۔ شاعر کی زندگی نے خواہ کتنے ہی زیر و زبر دیکھے ہوں باوجود اس کے جب سخن پردازی کی میزبانی کرتے ہیں تو یہ بسملؔ صاحب کا ہی فیضان ہے جہاں بے پناہ شعری زرخیزی، فطری فہمیدگی، اخلاص و مصرع بیانی کا لاجواب جواز پیش کرتے ہیں۔
ہوگا تمہارا نام ہی عنوان ہر ورق
اوراقِ زندگی کو الٹ دیں کہیں سے ہم
ساتھ ہر سانس کے آتا ہے زباں پر ترا نام
دل میں جو کچھ ہو وہی وردِ زباں ہوتا ہے
اسی ضمن میں بسملؔ صاحب کی غزل کے موضوعات پر بھی غور کرتے چلیں۔ اولاً حقیقت نگاری انکی ادائیگی اور انتخاب کلام کا مشمولہ فن ہے۔ درد، غم، یاس و رنج کا بیان جہاں آپ کے اشعار کی زینت رہا ہے۔ ہر موضوع پرجامع بیان بھی یہاں موجود ہے۔ بالخصوص شکوہ شکایات کے زیر عکس دل و دماغ کی اِک عجیب و غریب کیفیت کا بھی نمایاں تذکرہ ہے۔ صلاحیت قلم پر قلبِ قاری عش عش کہہ اٹھے۔ اشعار رومانی سے روحانی ہوئے جاتے ہیں۔ خونِ دل خونِ جگر کی رواں داستاں حسین و پرآفرینی الفاظ کے غنچے پے درپے واقع ہوتے ہیں۔جہاں حالتِ زار سے قنوطیت کا حوالہ موجزن ہے اور عبارت میں غم و نشاط ، امید و یاس کی ترجمانی کے لئے ایسی پیاری علامتیں اٹھاتے ہیں کہ بس ۔
اپنے دامن سے مرے پونچھنے والے آنسو
دامنِ خاک سے اب آکے اٹھالے آنسو
باغ میں آج تری یاد میں رونے کے لئے
میں نے پھولوں کے تبسم سے نکالے آنسو
جام بھر بھر کے نہ دے ہجر میں ساقی مجھ کو
نظر آتے ہیں یہ لبریز پیالے آنسو
شاعرِ انقلاب جوشؔ ملیح آبادی نے بسملؔ صاحب کی شعری صلاحیت اور قدر و منزلت کے متعلق بیان کیا ہے:
’’بسملؔ صاحب بیحد محبت کے آدمی ہیں اور ان کی محبت میں دل کو مسخر کرلینے کی طاقت ہے۔ اس کے دوش بدوش یہ بلا کے حساس اور بے پناہ خوددار واقع ہوئے ہیں ۔ بسملؔ صاحب کی شاعری زیادہ تر رومانی شاعری ہے لیکن ایسی رومانی شاعری نہیں جو عام طور سے غزلوں میں نظر آتی ہے جس میں واردات کے عوض میں صرف روایتی کارفرمائی ہوتی ہے اور جس کا پارچہ مشاقی کے چرخے پر کاتا جاتا ہے۔بسملؔ صاحب اپنے دل کے خون سے اپنا چراغ جلاتے ہیں اور اپنے دل کی دھڑکنوں کو الفاظ کے سپرد کرتے ہیں اور آپ بیتی کے سوا کچھ بھی نہیں کہتے‘‘۔
تقدسِ احساس کے شاعر تجھے ادب کی بناس یاد کرتی ہے
سوکھے ہیں سوتے سارے تجھے موجِ بساط یاد کرتی ہے
***
Comments
Post a Comment