Teri ankhon ke siwa





تیری آنکھوں کے سوا

کہتے ہیں جب زبان خاموش ہو جایا کرتی ہے تب نگاہیں بات کرتی ہیں، نگاہ کو ہی یہ شرف حاصل ہے۔ کسی نازنیں کی نگاہ مجسم اوقات میں بھی اپنے افکار کی رعنائی کے جلوے دکھادیا کرتی ہے۔ نگاہ اپنے قریب ہزاروں سوالات کے بحر رواں کر عجیب سا ماحول پیدا کردیتی ہیں ۔ ایک انتشار کا عالم برپا ہوتا ہے۔ ذہن میں تشنگی کا عالم ہوتا ہے کہ جب نگاہ جھکی ہو تو اس میں شرم و حیا و شکایات کی ادا کے ہمراہ کہیں کہیں مایوسی کا پیمانہ بھی موجود ہوا کرتا ہے۔ جب دراز فلک کے نامعلوم گوشوں میں کسی کی بے سدھ نظر تلاش کا عنصر ساتھ لیے کھوئی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ وقت اپنے آپ میں کس قدر نامانوس ہواجاتا ہے ، اس کا اندازہ کرنا بھی اپنے تئیں کارِ دشوار ہے۔ نگاہ کے طلسم سے بظاہر کامل وابستگی ناممکن ہے نا جانے کس وقت کون سا تیر چل جائے۔ راحت اندوری کا شعر ملاحظہ فرمائیں:
اس کی کتھئی آنکھو ں میں ہے جنتر منتر سب
چاقو واقو، چھریاں وریاں ، خنجر ونجر سب
سچ تو یہ ہے کہ انسانی صورت خد و خال اور منقسم اصناف میں آنکھیں بہت اہمیت کی حامل ہیں، لیکن ذرا غور کیجئے کیا نگاہِ زن ہی اپنے درمیاں یہ تمام خاصیت و ناز اختیار کیے ہیں ، کیا کسی حساس طبیعت کے مرد کی آنکھیں متذکرہ خصوصیات و احوال کی حامل نہیں ہوسکتیں۔
جواب ہوگا۔۔۔۔۔۔کیوں نہیں، ہوسکتی ہیں۔۔۔بالکل
بلاشبہ کسی مرد کی آنکھیں بھی اسی قدر ہزارہا موجوں کی لہر یں لیے ہمارے ر وبرو پیش ہوسکتی ہیں ۔ آخر جذبات کا رشتہ تو انسان کی ان دونوں ہی قسم میں برابر ہے۔ درد تو دونوں کو برابر ہوتا ہے اور زندگی میں احساس کی سطح پر ہر شے سے جوجھنا، لڑنا، مسکرانا، روٹھنا اور منانا یہاں تک کہ اپنی ہر جستجو اور خواہش کی دعا و طلب مرد اور عورت دونوں کو یکساں طور سے درکار ہوتے ہیں۔ کیا محبت اور شفقت کی ضرورت عورت کو ہی ہوتی ہے اور مرد جسے ذاتِ سنگ سے جوڑ دیا گیا ہے اس کے سینے کی گہرائی میں دھڑکنے والے معصوم دل کو کسی کے پیار اور وفا کی خواہش نہیں ہوتی۔ کیا مرد کی تھکی بوجھل آنکھیں کسی کے شانے کا سہارا ، کسی کی نرم انگلیوں کے لمس کو نہیں پکارا کرتیں،کیوں نہیں نگاہِ مردبھی ہمدردی اور ستائش کا پیمانہ ہے:
میرے اشک خوں کی بہارہیں کہ مرقعِ غمِ یار ہے
میری شاعری بھی نثار ہے تری چشم سحر نگار پر (جگر مراد آبادی)
ہم جانتے ہیں کہ یہ انسانی فطرت ہے محبت ، وفا، پیار، عشق اور تڑپ انسانی زندگی کا ایک ناتمام و پُرلطف پہلو ہے۔ یہ وہ طلب ہے جس کا آغاز ایک بچے کو اس کی ماں کی گود سے ہوتا ہے اور وقت کے درمیاں سفر کرتے ہوئے کوئی تشنگی، کسی کے سچے پیار و ایثار کی ناصبور طلب کسی خاص کے لئے بے چین کر دیتی ہے۔ یقیناًمرد محبت کا اسیر ہے ، اسے بے لوث محبت کی خواہش تاعمر رہا کرتی ہے تمام عمر کسی دلنشیں نگاہوں کی راہ میں حیران ہوتا ہے کہ جن کے درمیاں اقرار کے ہمسایہ سپردگی ،جان نثار کر دینے کا جذبہ ئدراز پنہاہو کہ اس ہمراہی کا ساتھ زندگی کو یقین و خوشنوائی اور اطمنان سے پر کر دے یہ انتظار کتنا حسین ہے:
کس کی آنکھیں دمِ آخر مجھے یاد آئی ہیں
دل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا (فانی بدایونی)
ایک ایسی نظر جو اس کا انتظار کرے وہ دھڑکنیں جن میں اس کا نام ہو وہ لب جن پر اس کے لیے وفا کی راگنیاں گنگنائی جائیں، وہ گلابی ہتھیلیاں جن میں اس کی حفاظت و قرب کی دعائیں واقع ہوں، وہ زلفیں کہ جن کے درمیاں زندگی کے سیاہ کاروں کی تلخی کو وہ فراموش کرسکے۔وہ پرسکون و پرکیف صدا جو اس کی مشکلوں ، پریشانیوں کے لمحات میں اس کا ساتھ دے سکے اسے سہارا دے سکے،مرد کو اس کا خیال بھی نافراموش ہے۔پروین شاکر کا شعر ان انکھوں کی حقیقی ترجمانی ہے:
میں اس کی آنکھوں کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں
نظم کا ایسا طلسم کس داستان میں ہے
ایک حساس انسان اپنی تمام عمر کسی اپنے کی یاد اور اس کی خواہش میں یوں ہی گذار دیتا ہے۔ اس کی زندگی آگے تو بڑھتی ہے لیکن وہ خود اپنی سوچ اپنی آرزوؤں کے لبادوں میں تنہا چھپا ہوا رفتار سے ناآشنا اسی جگہ کھڑا رہ جاتا ہے، اس کی باطنی شخصیت کبھی سفر نہیں کرتی، وہ منتظر سی کسی اپنے کے لیے دل کی راہوں میں چراغ ہی روشن کرتی رہتی ہے، بے چارگی، بے بسی او ر بے چینی زندگی کو سکون نہیں دیتی ، ایک کشمکش کا عجیب و غریب سلسلہ دور تک سایہ کی طرح ساتھ سفر کرتا ہے۔ ع
جو گذر رہی ہے مجھ پر اسے کیسے میں بتاؤ
آپنے اسی طرح کسی نامعلوم سفر کی جانب بوجھل قدموں سے بڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ جہاں نہ مسرتوں کی خواہش، نہ نظاروں کا سرور نہ زندگی کا حسن، نہ اپنی ذات کا ہوش، ایک غیر ارادتاً سفر ، ایک بے مزہ حیات اور اس پر خاموش نگاہیں جن میں سرخ دھاگے دوڑ رہے ہیں، پلکیں بھاری ہیں، دیکھتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ نہ جانے کتنی راتوں سے یہ معصوم نگاہیں اپنی پلکوں کو ہم آغوشی کے عمل سے دور کیے ہیں۔ دونوں جانب کی نرم گھماؤدار پلکیں قیدیوں کی مانند دور دور ، ترسی ترسی حسرتوں کے زیور سے آراستہ ہیں۔ کوئی ذرا ہلکی سی پیار کی تھپکی دے دے ان آنکھوں کو، سکون کا ساماں میسر کردے، ان میں نیند کی نعمت سنور جائے ، خوابوں کے موتی بکھر جائیں کہ یہ آنکھیں بہت پریشان کئے دیتی ہیں۔
میں سو بھی جاؤں تو کیا، مری بند آنکھوں میں
تمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے
میں جب اس کے خیالوں میں کھو جاتا ہوں
وہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے (جاں نثار اختر)
دور بیٹھے خاموش کھوئے ہوئے کسی چہرے کو دیکھیئے کہ جس کا ذہن و دل میلوں دور نہ جانے کہاں منتشر ہے۔ سنگ دل کہے جانے والے مرد کی یہ تصویر کس قدر دلسوزہے، یہ کوئی انجان شخص ہو یا کوئی اپنا ایک اچھا نیک دل دوست اسکی یہ حالت دیکھنا بیحد تکلیف کا موقع ہوگا، ہزاروں خیال ذہن میں دستک دیتے ہیں اور ہم ان کے بھنور کے درمیان اپنے دوست کو دیکھتے ہیں........
وہیں دوسری جانب آنکھیں ہمارے چہرے کا کل بیان ہیں، اس میں مسکراہٹوں کے آبشار روشن ہیں تو کہ نگاہوں سے دل کی شادمانی کا حرف حرف انکہے بیاں ہوا جاتا ہے، ہنسی ہوئی آنکھیں گلابی گلابی کنول کی صورت میں اپنے ہر راز کو کہہ دیتی ہیں ۔ شوخ آنکھوں میں کسی کے پیار کی باتیں، کسی کا بے صبر انتظار، کسی کی وفا کا پرکیف اثر اور کسی سے خوابوں کی لڑیاں موجود ہیں کہ جب آنکھوں میں شادابیاں ،شرارتیں اور شوخی کا عمل ہوتا ہے تو وہ ادا بھی بڑی نرالی ہوتی ہے :
خدا نے برق تجلی تجھے جمال دیا ہماری آنکھوں کو دیدار کا کھیال دیا
فریب حسن نے سکھلائی ان کو سیدی شکار کھیلنے کو گیسوؤں کا جال دیا

جب خواب ہوئیں اس کی آنکھیں جب دھند ہوا اس کا چہرہ
ہر اشک ستارہ اس شب تھا، ہر زخم انگارہ اس دن تھا (احمد فراز)
لیکن پھر بھی یہ شاہد حقیقت ہے کہ زندگی سے بیزاری آنکھوں سے بہت شدت کے ساتھ عیاں ہوتی ہے، غم میں ڈوبی ہوئی رنجور نگاہیں کسی بھی انسان کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ محبوب کی یاد میں اس کی تڑپ اور آرزو کے لاسطح سمندر کی صورت جو دکھ کا محشر برپا ہوتا ہے، وہ کسی مرد کے سینے میں بھی لاوا کی طرح پھوٹنے کے لیے بے قرار ہوتا ہے۔ درد و سوز کا رشتہ آدم علیہ السلام کے آنسوؤں سے شروع ہوکر آج کے اس بے حساب دوڑتے دور میں بھی قائم و دائم ہے۔ ایک بے کل زندگی اور پیاسی آنکھیں جو اپنے حسین یاس یگانہ سچے معشوق کی تلاش میں روز و شب براہِ سفر ہے، اس انداز میں کہ منزل کجا کہ یارِ من کجا خیابانِ در خیابان آس در آس تشنگی بر تشنگی ہمراہ سوز و گداز
بے دلوں کی ہستی کیا جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
خواب ہے نہ بیداری ہوش ہے نہ مستی ہے
چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرتِ ناصح
طرزِ نگہ چشم فشوں ساز تو دیکھو
کسی کی سچی محبت انسان کی زندگی کے دھاروں کے رُخ کو موڑ دینے کا دم رکھتی ہے، محبت میں وہ طاقت ہے جو بجھتے چراغ میں جان ڈال دینے کی بات کو حقیقت سے آشنا کردے۔ درحقیقت یہ قدرت جو محبت کی خاطر بنائی گئی ہے، محبت ہی اس کا آغاز اور محبت ہی انجام ہے، تو اس جذبے سے ہر انسان کی زندگی انبساط کیوں کرنہ ہو۔ سوکھے خاموش ریگستان میں جب کہیں دور سے سبزہ کی مہک آئے اور کوئی مقامِ آب نظر آئے جو کیفیت اس وقت ہوا کرتی ہے اس سے کہیں زیادہ پُرکیف و زندہ احساس وہ ہے کہ کسی ٹوٹے بے سہارے اور مایوس انسان کو کسی کی معطر شائستہ، ہمدرد نگاہیں حاصل ہوجائیں۔ وہ نگاہیں مسکراکر اس کا حالِ دل جان لیں کرب کا زہر خود بہ خود بے جان ہو جاتاہے ۔اس لئے کسی کی نگاہوں میں شادابی کے ستارے سجانے کے لئے ایک بار خود کوشش کیجیئے کہ شاید وہ نگاہ سنور جائے اور محبت و خلوص کے چاند کا نور زندگی کو روشن کر دے۔ یقیناًنظر پُراثر زندگی کا اصل راز ہے۔

از: ڈاکٹر زیبا زینت

Comments

Popular posts from this blog

Ahmad Faraz aur shikayaat ka mausam

Tazkirah nigaari

Shakeel Badayuni